بنی اسرائیل کی ایک عورت اپنے بچے کو لے کر جنگل میں سے گزر رہی تھی کہ اچانک بھیڑیا آیا اور اس نے عورت پہ حملہ کیا جب بھیڑیئے نے حملہ کیا تو وہ کمزور دل عورت گھبرا گئ جس کی وجہ سے اسکا بیٹا اسکے ہاتھ سے نیچے گر گیا بھڑیئے نے بچے کو اٹھایا اور وہاں سے بھاگ گیا ۔جب ماں نے دیکھا کہ بھیڑیا میرے بیٹے کو منہ میں ڈالکر جارہا ہے تو ماں کی ممتا نے جوش مارا تو اسکے دل سے ایک آہ نکلیجیسے ہی اسکی آہ نکلی تو اس نے دیکھا کہ جوان مرد
درخت کے پیچھے سے بھیڑیے کے سامنے آیا ، جب بھڑیئے نے سامنے اچانک ایک مرد کو دیکھا تو وہ گھبرا گیا اور بچے کو وہی چھوڑ کر بھاگ گیا نوجوان نے بچے کواٹھایا اور ماں کے حوالے کردیا اس ماں نے اس سے پوچھاتم کون ہو جس نے میرے بچے کی جان بچائی آدمی نے کہامیں اللہ پاک کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں مجھے اللہ پاک نے آپکی مدد کرنے بھیجا ھے جب ایک بار آپ کھانا کھا رہی تھی عین اسی وقت ایک سائل نے آپکے دروازے پہ روٹی کا ٹکرا مانگا آپکے گھر میں اس وقت وہی روٹی موجود تھی جو آپ خود کھانے والی تھی آپ نے کہا اللہ کے نام پہ سوال کرنے والے کو خالی ہاتھ کیسے جانے دوں تم نےخود کو بھوکا رکھ کر اپنے لقمے اسکو دیئے آپ اللہ پاک نے بھیڑیے کے منہ کے لقمے نکال کر آپ کو دیئے کہ احسان کا بدلہ بس احسان ہے ــآج جب ہمارے معاشرے میں طرح طرح کے ڈرنکس بن رہے ہیں طرح طرح کے کھانے تو یہ ممکن ہے کہ کسی غریب کے گھر فاقے ہوں ـ ہمارا ہمسایہ بھوکا ہو ــ آئیں اپنے منہ کے نوالے اگر پورے نہیں تو آدھے ان کے نام کردے کیا پتہ حالات کا بھیڑیا کل ہم کو اس عورت گھیر لے اور بچانے بھی کوئی نہ آے ــ کھانوں کی سلفیاں لیکر فیس بک ڈالنا کوئی نیکی نہیں
aamir alwani youtube channel entertain you about islamic Byanaat Speeches and Hamd o Naat and Nazmeen. all of this about Ishaat Tuheed Wa sunnah https://www.facebook.com/ishaat.alwani/ -~-~~-~~~-~~-~- https://www.youtube.com/watch?v=BfZCPQN6u_0 subscribe now aamir alwani https://www.youtube.com/channel/UCz5rMhMECg23uS2AfSHHUIA like facebook page ishaat alwani https://www.facebook.com/ishaat.alwani/app/181411457193/ -~-~~-~~~-~~-~-
Translate
Tuesday, 27 February 2018
عوت اور بھیڑیا
خاوند کا تجسس
شادی کے دن نئی نویلی دلہن نے ایک اٹیچی کیس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے شوہر سے وعدہ لیا کہ وہ اس اٹیچی کیس کو کبھی نہیں کھولے گا۔ شوہر نے وعدہ کر لیا۔شادی کے پچاسویں سال بیوی جب بسترمرگ پر پڑ گئی تو خاوند نے اسے اٹیچی کیس یاد دلایا بیوی بولی :اب یہ وقت ہے اس اٹیچی کیس کے راز کو افشا کرنے کا۔ اب آپ اس اٹیچی کیس کو کھول لیں۔خاوند نے اٹیچی کیس کھولا تو اس میں سے دو گڑیاں اور ایک لاکھ روپے نکلےخاوند کے پوچھنے پر بیوی بولی “میری ماں نے مجھے کامیاب شادی کا راز بتاتے ہوئے ،
نصیحت کی تھی کہ غصہ پی جانا بہت ہی اچھا ہے۔ اسکے ماں نے مجھے طریقہ بتایا تھا کہ جب بھی اپنے خاوند کی کسی غلط بات پر غصہ آئے تو تم بجائے خاوندپر غصہ آئے تو تم بجائے خاوند پر غصہ نکالنے کی بجائے ایک گڑیا سی لیا کرنا”۔تو مجھے جب بھی آپ کی کسی غلط بات پر غصہ آیا میں نے گڑیا سی لیخاوند دو گڑیاں دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ اس نے اپنی بیوی کو کتنا خوش رکھا ہوا ہے کیونکہ بیوی نے پچاس سال کی کامیاب ازدواجی زندگی میں صرف دو گڑیاں ہی بنائی تھیں۔خاوند نے تجسس سے اٹیچی میں موجود ایک لاکھ روپوں کے بارے میں پوچھا تو بیوی بولی“یہ ایک لاکھ روپے میں نے گڑیاں بیچ بیچ کر اکٹھے کیے ہیں.
ممی سازی( احرام مصر کی )
#ممی_سازی ...!
ممی سازی مصریوں کا نادرِ روزگار فن تھا۔ اس فن کو انہوں نے تجارتی راز کی طرح اپنے سینے میں محفوظ رکھا۔ البتہ جب مصر پر عیسائیوں کا غلبہ ہوا تو مصری تہذیب کے ساتھ ممی سازی کا ہنر بھی موت کے ملبوں تلے دب کر ختم ہو گیا ...
قابل قدر قارئین کرام یونان کے مشہور مؤرخ ہیروڈوٹس نے 5ویں صدی قبل مسیح میں مصر کا سفر کیا تھا۔ وہ ممی سازی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :
" ممیاں عام طور پر تین قسم کی ہوتی ہیں۔ بہت قیمتی، اوسط قیمت کی اور معمولی درجے کی۔ اعلٰی درجے کی ممیوں کی تیاری کا طریقہ یہ تھا ...
ممی ساز سب سے پہلے ایک آنکڑے سے مُردے کا مغز نتھنوں کے راستے نکال لیتے ہیں۔ مغز کا جو حصہ اندر رہ جاتا ہے اس کو دوائیں اندر ڈال کر خارج کرتے ہیں پھر ایک تیز پتھر سے پیٹ کے ایک طرف گہرا شگاف ڈالتے ہیں اور انتڑیاں نکالتے ہیں۔ اس کے بعد لاش کو اندر باہر سے کھجور کی شراب سے خوب دھوتے ہیں اور لوبان کی دھونی دیتے ہیں تب لوبان، تیزپات اور دوسرے خوشبودار مسالوں کا سفوف لاش کے اندر بھر دیتے ہیں اور شگاف اور سوراخوں کو سی دیتے ہیں۔ اس کے بعد لاش 70 دن تک لظرون (شوار) کے پانی میں ڈوبی رہتی ہے۔ 70 دن کے بعد لاش کو غسل دیا جاتا ہے اور عمدہ لٹھے کی پٹیاں گوند لگا کر لاش کے گرد لپیٹ دی جاتی ہیں تب لاش کے ورثا لاش کو لکڑی کے ایک بکس میں جو انسان کی شکل کا ہوتا ہے رکھ دیتے ہیں اور بکس کا ڈھکنا بند کر کے مقبرے میں دفن کر دیتے ہیں ...
جن لوگوں کی استطاعت اوسط درجے کی ہوتی ہے ان کی لاش میں سے شگاف دے کر غلاظت نہیں نکالی جاتی بلکہ مقعد میں چندن کے تیل کی پچکاری دی جاتی ہے اور مقعد کا سوراخ بند کر دیا جاتا ہے تا کہ تیل باہر نہ نکلنے پائے۔ تب لاش کو 70 دن لظرون کے پانی میں ڈبو دیا جاتا ہے۔ آخری دن مقعد کو کھول دیا جاتا ہے تا کہ تیل خارج ہو جائے۔ یہ دوا اتنی کارگر ہوتی ہے کہ ساری غلاظت اور انتڑیاں رقیق مادے کی شکل میں باہر آ جاتی ہیں اور لظرون گوشت کو گھلا دیتا ہے چنانچہ کھال اور ہڈیوں کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہتا۔ اس کے بعد لاش بِلا پٹی لپیٹے اور مسالہ بھرے ورثا کے حوالے کر دی جاتی ہے ...
جو لوگ بلکل ہی کم استطاعت ہوتے ہیں ان کی لاش کو مسہل دے کر اور 70 دن تک لظرون کے پانی میں ڈبو کر واپس کر دیا جاتا ہے ... "
(واللہ تعالٰی اعلم)
Sunday, 25 February 2018
Saturday, 24 February 2018
Friday, 23 February 2018
Allama Atta Ullah Bandyalvi Bayan Ijtima Qila Dedar Singh 2018
Thursday, 22 February 2018
Sheikh UL Quran Allama Muhammad Tayyib Tahir Panjpiri Bayan Ijtima Qila ...
Ullama e deoband ky bayanaat ka markaz
Wednesday, 21 February 2018
Tuesday, 20 February 2018
Monday, 19 February 2018
Sunday, 18 February 2018
Thursday, 15 February 2018
وہ پیدا ہوا تو اس کے کان نہیں تھے
وہ پیدا ہوا تو اس کے کان نہیں تھے
ایک عورت کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، وہ اور اس کا خاوند بہت خوش تھے۔ انہوں نے اپنے بچے کو پہلی بار دیکھا، وہ بہت خوبصورت تھا لیکن اس کے کان نہیں تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر سے پوچھا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کے کان اندر سے بالکل ٹھیک تھے اور وہ کسی بھی طرح سے معزور نہیں تھا لیکن اس کے باہر نظر آنے والے کان نہیں تھے اور اس کے لیے ڈاکٹر اس وقت کچھ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ ایک بہت چھوٹا سا بچہ تھا۔ اس کی ماں اسی وقت سمجھ گئی کہ اس بچے کے لیے لوگوں کا سامنا کرنا.
اور ایک نارمل زندگی گزارنا بالکل نا ممکن تھا۔ جب وہ بچہ سکول جانا شروع ہوا تو وہ پڑھائی میں باقی سب سے بہتر تھا لیکن حسد کی وجہ سے باقی لڑکے اسباقی لڑکے اس کے کان کا مزاق اڑاتے تھے۔وہ جب بھی سکول سے واپس آتا اس کاچہرہ لٹکا ہوا ہوتا تھا۔ اس کی ماں بہت پریشان رہتی تھی۔ وہ لڑکا آہستہ آہستہ پڑھائی میں بھی کمزور ہوتا جا رہا تھا کیونکہ وہ باقیوں کی باتوں کو دل پر لیتا تھا۔ پھر وہ کالج کا طالب علم ہو گیا اور پھر یونیورسٹی جانے لگا لیکن وہ جدھر بھی جاتا لوگ اس کا مزاق اڑاتے تھے۔ ایک دن اس کا باپ جا کر ڈاکٹر سے ملا اور بتایا کہ ان کا بیٹا احساس کمتری کا شکار ہو گیا ہے، کچھ ایسا نہیں ہے کہ اس کے کان ٹھیک کیے جا سکتے ہوں؟ ڈاکٹر نے بولا کہ ہو تو سکتا ہے لیکن اس کے لیے کوئی ڈونر چاہیے ہو گا۔ لڑکے کا باپ دو سال ادھر ادھر مارکٹنگ کرتا رہا اور لوگوں سے پوچھتا رہا آخر ایک دن وہ اپنے بیٹے کے پاس گیا اور اس کو بولا کہ چلو ہسپتال چلیں آپ کے لیے ڈونر مل گیا ہے، اس کا بیٹا بہت خوش ہوا کہ پوچھا کہ کون اتنا عظیم انسان ہے؟ باپ نے بولا کہ اس نے مجھے بتانے سے منع کیا ہے، بس سمجھو کہ یہ ایک راز ہے۔آہستہ آہستہ اس کی پڑھائی پہلے کی طرح بہت بہتر ہو گئی اور وہ ٹاپ کرنے لگ گیا۔ اس نےاس کا آپریشن کامیاب رہا اور وہ دیکھنے میں بالکل نارمل بلکہ بہت وجیہہ نظر آنے لگ گیا۔ بہت اچھے زندگی کا آغاز کر لیا۔ پھر اس کی شادی ہو گئی
اور اس کے بچے بھی ہو گئے، کبھی کبھی وہ اپنے ماں باپ سے پوچھتا کہ وہ کون ہے جو اس کا محسن ہے جس نے اسے نارمل زندگی گزارنے کے قابل بنایا ہے۔ وہ ٹال دیتے کہ جب وقت آئے گا تو بتا دیں گے، ابھی اس کو راز ہی رہنے دو۔ جس دن اس لڑکے کا ماں کی وفات ہوئی وہ اس کے لیے پہلے ہی بہت بھاری دن تھا، اس کے باپ نے تابوت کے پاس اسے بلایا اور اس کی ماں کے بال ایک طرف کر کے اس کو دکھایا تو اس کی ماں کے کان نہیں تھے۔
اس نے اپنے بیٹے کو بتا دیا تھا کہ اس کی سب سے بڑی محسن کونسی عظیم ہستی تھی۔ وہ لڑکا بہت رویا اور اس نے اپنے باپ سے پوچھا کہ کبھی کسی نے ماں کو تو عجیب نظروں سے نہیں دیکھا تھا کہ ان کے کان نہیں تھے، باپ نے بولا کہ جن کا دل اتنا صاف اور خوبصورت ہو ان کی شکل اور ظاہری حلیے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، لڑکا اب سمجھا تھا کہ اس کی ماں اتنے عرصے سے بال ہمیشہ کھلے کیوں چھوڑتی تھی۔
ﻭﮦ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ
ﻭﮦ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺣﻨﯿﻔﮧ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﺒﻖ ﭘﮍﮬﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﺮﻗﻌﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺁﺋﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﺐ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﺮﯼ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤتہ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﯼ۔ﻃﻠﺒﺎﺀﺑﮍﮮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﺑﮭﺌﯽ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻧﯿﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﯿﺐ ﺗﻮ ﻻﺋﯽ ﺳﺎتھ ﭼﮭﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤتہ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺳﯿﺐ ﮐﺎﭨﺎﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ ﺣﺼّﮧ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﭼﮭﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ۔ﺍﺏ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤتہ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﻮ ﺣﺪﯾﺜﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺪﯾﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺧﻼ ﻑ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺟﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺪﯾﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﺮﯾﮏ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﮯ۔ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎﻭﮦ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﺗﻮ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ﺍﺏ ﯾﮧ ﺣﯿﺮ ﺍﻥ ﮐﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﭘﻮچھ ﮐﺮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ﻧﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻧﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ۔ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﯿﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺌﯽ ﺭﻧﮓ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﭩﯿﺎﻟﮧ ﮨﮯ،ﮐﮩﯿﮟ ﻣﮩﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﮨﮯ، ﮐﮩﯿﮟ ﺳﺒﺰ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﺮﺥ ﮨﮯ۔ﻋﻮﺭﺕ ﺟﺐ ﻧﺎﭘﺎﮎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﻥ ﮐﺌﯽ ﺭﻧﮓ ﺑﺪﻟﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ﻭﮦ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﺭﻧﮓ ﻧﺎﭘﺎﮐﯽ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﭘﺎﮐﯽ ﮐﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺐ ﻧﻤﺎﺯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺳﯿﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺭﻧﮓ ﮨﻮ ﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺎﭨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺳﻔﯿﺪ ﺭﻧﮓ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻧﮓ ﻧﮩﯿﮟ۔ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺳﻔﯿﺪﺣﺼّﮧ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮮﺩﯾﺎﮐﮧ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺭﻧﮓ ﻧﺎﭘﺎﮐﯽ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻭﮦ ﺧﯿﺮﺍﻟﻘﺮﻭﻥ ﮐﺎ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﺩﻣﺎﻍ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﻮﭼﮭﺎﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎ ﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺲ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ۔
Monday, 12 February 2018
Sunday, 11 February 2018
Friday, 9 February 2018
*مسلم حکمران اور اُن کا دورِحكومت*
1. عامر *نصیرالدین* سبكتگين،
حکومت 13 سال (984-997ء)
2. *محمود غزنوی*،
حکومت 32 سال ( 998 تا 1030 ء)
3. سلطان *شہاب الدین غوری*،
حکومت 31 سال (1175-1206 ء)
4. سلطان *قطب الدین ایبك*،
حکومت 4 سال (1206-1210 ء)
---------------------------------------
" *غلام خانوادے سے* "
5. سلطان *شمس الدین التمش* ،
حکومت 24 سال (1211-1235 ء)
6. *رضیہ سلطان* (سلطان شمس الدین التمش کی بیٹی) (1236-1246 ء)
7. سلطان" *نصیرالدین محمود* ،
حکومت 20 سال (1246-1266 ء)
8. سلطان *غياث الدين بلبن* ،
حکومت 21 سال (1266-1287ء)
---------------------------------------
" *خلجی خانوادہ* "
9. سلطان *جلال الدین* خلجی،
حکومت 6 سال
(13 جون1290 تا 20 جولائی 1296)
10. سلطان *علاؤالدین* خلجی،
حکومت 20 سال (1296-1316 ء)
---------------------------------------
" *تغلق خانوادہ* "
11. سلطان *غیاث الدین* تغلق،
حکومت 4 سال (1321-1325 ء)
12. سلطان *محمد شاہ* تغلق،.
حکومت 27 سال (1352- 1325 ء)
13. سلطان *فیروز شاہ* تغلق،
حکومت 35 سال (1352-1387 ء)
---------------------------------------
" *سید خانوادہ* "
14. *خضر خاں* ،
حکومت 7 سال (1414-1421ء)
15. *مبارک شاہ* ،
حکومت 13 سال (1421-1434ء)
16. *محمد شاہ* ،
حکومت 11 سال (1434-1445ء)
17. *المشاه شاہ* ،
حکومت 6 سال (1445-1451ء)
---------------------------------------
" *لودھی خانوادہ* "
18. سلطان *بحلول* لودھی،
حکومت 37 سال (1451-1488ء)
19. سلطان *سکندر* لودھی،
حکومت 29 سال (1488-1517 ء)
20. سلطان *ابراہیم* لودھی،
حکومت 9 سال (1517-1526ء)
---------------------------------------
" *مغل خانوادہ* "
21. شہنشاه *ظہیر الدین بابر* ،
حکومت 4 سال (1526-1530)
22. شہنشاه *ہمایوں* ،
حکومت (پہلا دور ) 10 سال (1530-1540ء)
---------------------------------------
" *سوری خانوادہ* "
23. *شیر شاہ* سوری،
حکومت 5 سال (1540-1545)
24. * اسلام شاہ* سوری،
حکومت 8 سال (1545-1553)
25. *فیروز شاہ* سوری، (1553)
26. *محمد شاہ* عادل، (1553)
27. *ابراہیم شاہ* سوری،
حکومت 3 سال (1553-1555)
28. *سکندر شاہ* سوری، (1555)
29. *عادل شاہ* سوری، (1555)
---------------------------------------
" *مغلوں کی واپسی* "
22. شہنشاہ *ہمایوں* ،
حکومت ( *دوسرا دور* )
1 سال (1555-1156ء)
30. شہنشاہ *جلال الدین محمد اکبر* ،
حکومت 49 سال (1556-1605ء)
31. شہنشاہ *نورالدین جہانگیر* ،
حکومت 22 سال (1605-1627)
32. شہنشاہ *شاہجہاں* ،
حکومت 31 سال (1627-1658)
33. *اورنگزیب عالمگیر (رح.)*
حکومت 49 سال (1658-1707)
34. محمد *احمد شاہ*،
*حکومت صرف کچھ وقت تک کے لئے،*
14 مارچ، 1707 سے 8 جون، 1707 تک.
35. *بہادر شاہ الاول*، حکومت 5 سال (1707-1712)
36. *جہاں دار شاہ* ،
حکومت 1 سال (1712-1713)
37. *فرخ شیر*،
حکومت 6 سال (1713-1719)
38. *رفیع الدین* ،
*حکومت صرف کچھ مہینوں کے کیلئے،*
28 فروری 1719 تا 6 جون 1719 تک
39. *شاہجہاں*
*حکومت صرف کچھ مہینوں کے کیلئے،*
6 جون 1719-تا 19 ستمبر 1719
40. *محمد شاہ*،
حکومت 29 سال (1719-1748)
41. *احمد شاہ*،
حکومت 6 سال (1748-1754)
42. *عالمگیر ثانی* عرف عالمگیر، حکومت 5 سال (1754-1759)
43. *شاہ عالم*،
حکومت 47 سال (1759-1806)
44. *جہاں شاہ*،
حکومت صرف کچھ وقت کے لئے،
31 جولائی 1788-16 اکتوبر 1788
45. *اکبر ثانی*،
حکومت 31 سال (1806-1837)
46. *بہادر شاہ ظفر*،
حکومت 20 سال 42 دن (1837-1857)
---------------------------------------
Thursday, 8 February 2018
"عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم " ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ
ﺟﺎﺅ ﺳﻮﺩﺍ ﻟﮯ ﺁﺅ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﯿﺎ جب وہ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ علیہ والہ ﻭﺳﻠﻢ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺍﻭﺭ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﻭﮦ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ
ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺗﺎ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﺎ ﮐﮩﺎﮞ
ﺭﮦ ﮔﯿﺎ، ﺁﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ
جہاں ﺗﮏ کے ﺳﻮﺭﺝ ﻏﺮﻭﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﺭﮮ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﺎﺧﯿﺮ کیوں ﺑﺎﭖ ﺑﮩﺖ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ توں ﺑﮍﺍ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻠﺪﯼ ﺁﻧﺎ ﺗﻢ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻮﺩﺍ ﻟﯿﻨﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻢ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ
ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟
ﺳﻮﺩﺍ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻮﻻ ﺳﻮﺩﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ
ﺑﺎﭖ : ﮐﯿﺎ ﭘﺎﮔﻞ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﻮﺩﺍ ﻟﯿﻨﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ، ﺳﻮﺩﺍ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﺮﯾﺪ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ
ﺑﯿﭩﺎ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺎﺑﺎ ! ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ، ﺳﻮﺩﺍ ﺧﺮﯾﺪ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ
ﺑﺎﭖ ﺑﻮﻻ : ﺗﻮ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﺎﺵ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮫ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ! ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﺑﺎ ! ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺑﺘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﺧﺮﯾﺪ ﻻﯾﺎ ﮨﻮﮞ؟
ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺑﻮﻻ : ﭼﻞ ﭼﮭﻮﮌ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﮮ،
ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﺭﻭﺯ ﻧﺒﯽ ﺍﮮ ﺭﺣﻤﺖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮧ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ .
ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﺎ ﺍﮐﻠﻮﺗﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﮩﺎ ، ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻟﮍﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻥ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺭﮨﺎ، ﺍﺗﻨﺎ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﺮﻭﭦ لینی ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﻟﻤﺮﮒ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﺎ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﮔﯿﺎ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ علیہ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ
ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ، ﺁﭖ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ اتفاق ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﮍﮐﺎ ﺁﭖ پر ﺩﻝ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﻟﻤﺮﮒ ﮨﮯ ، ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺍﺕ ﺩﻥ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ، ﮐﯿﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ؟
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺁﺭﺯﻭ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽاس کی ﮐﮧ ﻭﮦ
ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮ ﻟﮯ ؟
ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭہا
ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ
ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ! ﺍﭨﮭﻮ ، ﻋﻤﺮ ! ﺍﭨﮭﻮ، ﻋﻠﯽ ! ﭼﻠﻮ ﭼﻠﯿﮟ ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ! ﺁﺅ، ﺑﺎﻗﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺳﺐ ﮨﯿﮟ ﭼﻠﯿﮟ آج ﻋﺎﺷﻖ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺁﺧﺮﯼ ﻟﻤﺤﮧ ﮨﮯ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ اپ صلی اللہ علیہ وسلم ﺍﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯﮨﯿﮟ،
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﺗﮭﯿﮟ
ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﺎ ﺳﺮﺍﭘﺎ ﮐﺮﻡ ﮨﯽ ﮐﺮﻡ ﮨﮯ، ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺳﺖ ﺍﻗﺪﺱ ﺭﮐﮭﺎ، ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯿﮟ، ﺟﯿﺴﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻟﻮﭦ ﺁﺋﯽ ﮨﻮ، ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻃﺎﻗﺖ ﺁ ﮔﺌﯽ، ﻧﺎﺗﻮﺍنی ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﻧﯽ اگی ہو ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ، ﺭﺥ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﷺ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﯼ، ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁﺋﯽ ﻟﺐ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﮯ
ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﺑﺲ ! ﺍﺏ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﻮ
ﻟﮍﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﺗﮑﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻨﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻜﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﺍﺑﻮﺍﻟﻘﺎﺳﻢ ( ﻣﺤﻤﺪ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﷺ ) ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﺮﻟﻮ .
ﻟﮍﮐﺎ ﺑﻮﻻ : ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ! ﷺ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﺑﺲ ﺗﻢ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﻮ ! ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮ ﺍﻭﺭ میرا رب ﺟﺎﻧﮯ، ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮ، ﺟﺎﺅ ﺟﻨﺖ میں ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ
ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺐ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﻭﺡ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﻛﻠﻤﮯ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺋﯿﮟ، ﻟﺐ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺋﮯ
ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﻮﻻ
ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﻟﮍﮐﺎ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ، ﺍﺏ ﯾﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺱ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﮨﮯ، ﻛﺎﺷﺎﻧﮧ ﺍﮮ ﻧﺒﻮﺕ ﷺ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﭨﮭﮯ ، ﺗﺐ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮨﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﺅ ﺍﺱ ﮐﻮ
ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﺻﺪﯾﻖ ! ﺍﭨﮭﺎﻭ، ﻋﻤﺮ ! ﺍﭨﮭﺎﻭ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺁﮔﮯ
ﺑﮍﮬﻮ ، ﺑﻼﻝ ! ﺁﺅ ﺗﻮ ﺳﮩﯽ، ﻋﻠﯽ ﭼﻠﻮ ﺩﻭ ﮐﻨﺪﮬﺎ ، ﺳﺐ ﺍﭨﮭﺎﻭ ﺍﺳﮯ
ﺁﻗﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺟﺐ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺻﺪﻗﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ
ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺻﺪﻗﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ
ﺍﻟﻠﮧ ﻫﻮ ﺍﮐﺒﺮ
ﮐﯿﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﺱ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﯽ ﻣﻴﺖ ﮐﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻋﻠﯽ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ، ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ، ﺑﻼﻝ ﺣﺒﺸﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮭﮩﻤﺎ ﺟﯿﺴﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﮐﻨﺪﮬﺎ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ، ﺍﻭﺭ ﺁﮔﮯ ﺁﮔﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﷺ ﮨﻮﮞ
ﻗﺒﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺋﯽ، ﮐﻔﻦ ﭘﮩﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ، ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﻫﻮﮮ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ
ﻋﺎﺷﻖ ﮐﯽ ﻣﻴﺖ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﺁﭖ ﷺ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭘﻨﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻞ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻣﮑﻤﻞ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﷺ ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﭼﮩﺮﮦ
ﭘﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺯﺭﺩﯼ ﭼﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺗﮭﻜﻦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ
( ﺍﻟﻠﮧ ﮬﻮ ﻏﻨﯽ )
ﺻﺤﺎﺑﮧ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﮨﮯ؟
ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ؟
ﺁﭖ ﷺ ﭘﻨﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻞ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮨﮯ؟
ﺗﻮ ﮐﺮﯾﻢ ﺁﻗﺎ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﮕﮧ ﻣﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ ، ﻣﯿﮟ
ﭘﻨﺠﮧ ﮨﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﭘﺎﺅﮞ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ، ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﺎﺅﮞ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ
ﭘﮭﺮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﺁﭖ ﷺ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﮔﺌﮯ؟
ﮨﻤﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ، ﮨﻢ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺑﻮﻻ
ﺗﮭﺎ ﻧﺎ ﺗﯿﺮﯼ ﻗﺒﺮ ﮐﻮ ﺟﻨﺖ ﺑﻨﺎﻭﮞﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺍﺳﯽ ﻗﺒﺮ ﮐﻮ ﺟﻨﺖ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺍﺗﻨﮯ ﺗﮭﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﯿﮟ؟
ﺗﮭﮑﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﯿﮯ ﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻮﺭﯾﮟ ﺍﺱ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﮯﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺟﻮﺩ ﺳﮯ ﻟﮓ ﻟﮓ ﮐﺮ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ
ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ : ﺟﻠﺪ 3 / ﺣﺪﯾﺚ : 12815
اس تلوار کا حق کون ادا کرے گا ؟ ٭ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی شجاعت٭
'' اِضطرابِ عِشق ''
'' یارسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم! نہ کوئی جسمانی تکلیف ہے اور نہ کہیں درد،بات یہ ہے کہ رُخِ انور جب آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے تو دِل بے تاب ہوجاتا ہے فوراََ زیارت سے اس کو تسلّی دیتا ہوں۔اب رہ رہ کر مجھے یہ خیال ستا رہا ہے کہ جنّت میں حضور نبی اکرم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کا مقامِ بلند کہاں ہو گا اور یہ مسکین کس گوشہ میں پڑا ہو گا۔اگر روئے تاباں کی زیارت نہ ہوئی تو میرے لیے جنّت کی ساری لذّتیں ختم ہو جائیں گی،فراق و ہِجر کا یہ جانکاہ صدمہ تو اس دِلِ ناتواں سے برادشت نہ ہوسکے گا۔ ''
حضور نبی اکرم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم یہ ماجرا سُن کر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ جبرئیل امین علیہ السّلام یہ مژدہ لے کر تشریف لائے:
قادیانیوں اور دوسرے کافروں میں کیا فرق ہے؟
قادیانیوں اور دوسرے کافروں میں کیا فرق ہے؟
آپ گھر بیٹھے ہیں۔ آپ کے گھر کے دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ آپ اپنے بیٹے سے کہتے ہیں۔ ''بیٹا باہر دیکھو کون آیا ہے؟''
بیٹا آکر کہتا ہے ۔ ''ابو جی، بوٹا سنگھ آیا ہے۔ مہند سنگھ آیا ہے۔ ''آپ اندر بیٹھے سمجھ گئے کہ میرا ملاقاتی ایک سکھ ہے۔
اگر بیٹا آکر کہتا ہے۔''ابوجی رام داس آیا ہے، پریم چندر آیا ہے۔''آپ اندر بیٹھ کر سمجھ گئے کہ میرا ملاقاتی ایک ہندو ہے۔
اگر بیٹا ذکر کرتا ہے۔ ''ابو جی! محمد حسین قریشی آیا ہے، احمد علی عباسی آیاہے۔''آپ اندر سمجھ گئے کہ میرا ملاقاتی ایک مسلمان ہے۔
آپ جذبہ اشتیاق سے اٹھتے ہیں کہ میرا ایک مسلمان بھائی مجھ سے ملنے کے لئے آیا ہے۔ جب آپ باہر جاتے ہیں تو آپ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں کہ آپ کے سامنے ایک قادیانی ملعون کھڑا ہے۔
پہلی تینوں صورتوں میں آپ مختلف کافروں کو ان کے نام سے پہچان گئے۔ لیکن جب قادیانی کافر آیا تو وہ آپ کو دھوکہ دے گیا۔ کیونکہ اس کافر نے اپنا نام مسلمانوں جیسا رکھا ہوا ہے۔
آپ کسی عیسائی سے پوچھیں۔''تیرے مذہب کا کیا نام ہے؟''وہ فوراً کہے گا۔ ''عیسائیت''
آپ کسی ہندو سے پوچھئیے''تیرے مذہب کا کیا نام ہے؟''وہ فوراً بولے گا۔ ''ہندومت''
آپ کسی سکھ سے سوال کریں گے''تیرے مذہب کاکیا نام ہے؟''وہ فورا ً کہے گا۔ ''سکھ مت''
آپ کسی قادیانی کافر سے پوچھئے تیرے مذہب کا کیا نام ہے؟وہ فوراً کہے گا''اسلام''
دنیا کاکوئی کافر اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہتا جبکہ قادیانی دنیا کا واحد کافر ہے جو اپنے کفر کو اسلام کہتا ہے۔
آپ کسی عیسائی سے سوال کریں''تیری کتاب کا کیانام ہے؟''وہ کہے گا''انجیل''
آپ کسی ہندو سے سوال کریں ''تیری کتاب کا کیا نام ہے؟''وہ کہے گا''وید''
آپ کسی سکھ سے پوچھیں ''تیری مذہبی کتاب کا کیا نام ہے؟''وہ جواباً کہے گا۔ ''گرنتھ''
آپ کسی قادیانی کافر سے پوچھے 'تیری مذہبی کتاب کا کیانام ہے؟''وہ فوراً کہے گا''قرآن مجید''
پہلی تینوں صورتوں میں ہر کافر نے اپنی اپنی مذہبی کتابوں کے نام بتائے ہیں۔ لیکن مکار قادیانی کافر نے اپنی مذہبی کتاب کا نام ''قرآن مجید'' بتا کر مسلمانوں کی کتاب پر قبضہ کیا ہے۔
آپ کسی عیسائی سے پوچھیں''تیری عبادت گاہ کا کیا نام ہے۔''وہ بولے گا ''گرجا''
آپ کسی ہندو سے پوچھیں''تیری عبادت گاہ کا کیا نام ہے؟''وہ کہے گا ''مندر''
آپ کسی سکھ سے پوچھیں ''تیری عبادت گاہ کا کیا نام ہے؟''وہ کہے گا ''گوردوارہ ''
آپ عیار قادیانی کافر سے پوچھیں ''تیری عبادت گاہ کا کیا نام ہے؟''وہ فوراً منہ کھول کر کہے گا ''مسجد''
پہلی صورتوں میں سارے کافروں نے اپنی اپنی عبادت گاہ کا نام بتایا۔ لیکن جب قادیانی کافر آیا تو اس نے مسلمانوں کی مسجد پر قبضہ کرنے کی ناپاک جسارت کی۔
میرے دوستو ! دنیا کے سارے کافر اسلام کے لئے سانپ ہیں۔ ہر سانپ کا علیحدہ علیحدہ رنگ ہے۔ ہر سانپ کے چلنے کی اپنی اپنی سرسراہٹ ہے۔ یہ ''کھپرا'' سانپ ہے۔ اس کی کوئی سرسراہٹ نہیں ۔ اس کی کوئی پھنکار نہیں۔ اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب یہ ڈنک مار کر ایمان کا چراغ گل کردیتا ہے۔
دنیا کے سارے کافر زہر کو زہر کے نام پر بیچتے ہیں۔ لیکن قادیانی کافر زہر کو تریاق کے نام پر بیچتا ہے۔ دنیا کے سارے کافر شراب کو شراب کے نام پر بیچتے ہیں لیکن قادیانی کافر شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل لگاتا ہے۔ دنیا کے سارے کافر خنزیر کے گوشت کو خنزیر کے گوشت کے نام پر فروخت کرتے ہیں لیکن قادیانی کافر خنزیر کے گوشت کو بکرے کے گوشت کے نام پر بیچتا ہے۔ دنیا کے سارے کافر شراب خانے پر شراب خانے کا بورڈ لگاتے ہیں لیکن قادیانی کافر شراب خانے پر مسجد کا بورڈ لگاتا ہے۔ عام کافر تلوار سے حملہ کرنے والادشمن ہے لیکن قادیانی کافر کھانے میں زہر ملانے والا دشمن ہے۔ عام کافراسلام کے قلعہ کے مین دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہونا چاہتا ہے لیکن قادیانی کافر قلعہ میں سرنگ لگا کر داخل ہوتا ہے۔
آپ کسی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کھڑے ہوں۔ آپ کسی شخص کو دیکھتے ہیں جس نے گلے میں صلیب لٹکا رکھی ہے تو آپ فوراً سمجھ جائیں گے کہ وہ شخص عیسائی ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو دیکھیں جس کے گلے میںمورتی لٹک رہی ہو تو آپ سمجھ جائیں گے کہ وہ شخص ہندو ہے۔ اگر آپ کسی شخص کو دیکھتے ہیں جس کے بازو میں کڑا، چہرے پر داڑھی اور سرپر مخصوص طرز کی پگڑی ہو تو آپ فوراً سمجھ جائیں گے کہ وہ شخص سکھ ہے۔ اگر آپ کسی شخص کو دیکھیں کہ اس کے گلے میں ''اللہ'' کا لاکٹ ہے یا سینہ پر کلمہ طیبہ کا بیچ ہے اور اس نے ہاتھ میں تسبیح پکڑ رکھی ہے۔ آپ اسے مسلمان سمجھ کر اس کے پاس جائیں تو وہ آپ کو یہ بتا کر حیران وششدر کرسکتا ہے کہ وہ قادیانی ہے اور پھر اپنا زہریلا منہ کھول کر اور متعفن دانت نکال کر آپ پر زہریلی ہنسی ہنس سکتا ہے۔
اللہ رہے اسیری بلبل کا اہتمام صیاد عطر مل کے چلا ہے گلاب کا
میرے دوستو ! حضرت سلیمان علیہ السلام کا عہد تھا۔ بہار کاموسم تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔گُلوں کی خوشبو نے فضامیںمستی پیدا کررکھی تھی۔ درخت کی ایک شاخ پر ایک ہد ہد کا جوڑا خوش گپیوں میں مصروف تھا۔ سامنے سے ایک شخص آرہا تھا۔ ہوا کے جھونکوں سے جھولتی شاخ پر بیٹھی مادہ ہد ہد نے جب اس شخص کو درخت کی جانب آتے دیکھا تو وہ چونک اٹھی اور اپنے خاوند سے کہا ''سرتاج اڑ چلیں ۔ شکاری آرہا ہے۔''
نرہد ہد نے صورتحال کا جائزہ لے کر کہا ''پگلی! دیکھ کیا شکاری اس طرح کے ہوتے ہیں۔ دیکھتی نہیں اس نے گیروے رنگ کا پھٹا پرانا لباس پہنا ہوا ہے۔ پائوں سے ننگا ہے۔ بال گرد سے بھرے ہوئے ہیں۔ چہرہ غبار آلود ہے۔ وہ اپنی مستانی چال میںچلا جارہا ہے۔ اسے تواپنے کی بھی ہوش نہیں۔ یہ تو کوئی سادھو ہے۔ جو جنگل کی سیاحت کررہا ہے۔ مادہ ہد ہد اپنے خاوند کے دلائل سے مطمئن ہوگئی اور وہ دونوں پھر اپنی رسیلی باتوں میں مگن ہوگئے۔ شکاری نے انہیں غافل پا کر نشانہ لیا اور غلیل چلا دی۔ نشانہ ہدہد کو لگا اور وہ تڑپتا پھڑکتا زمین پر آگرا۔ ظالم شکاری دھم دھم بھاگتا آیا۔ اس نے تڑپتے ہوئے ہد ہد کو پکڑا جیب سے خنجر نکالا اور اسے ذبح کر کے تھیلے میں ڈالا اور اپنا راستہ لیا۔ مادہ ہد ہد روتی دھوتی ، آہ وفغاں کرتی حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں پہنچی اور کہا کہ فلاں شخص نے میرے خاوند کو قتل کردیا ہے۔ میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم پر شکاری کو دربا ر میں حاضر کیا گیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شکاری سے کہا کہ تو نے اس کے خاوند کوکیوں قتل کیا ہے؟ شکاری نے جواب دیا''حضور میںنے اس کے خاوند کو قتل نہیں کیا۔ میںنے تو اسے شکار کیا ہے اور شکار کرنا آپ کی شریعت میں جائز ہے۔''
حضرت سلیمان علیہ السلام مادہ ہد ہد کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا ''شکاری نے شکار کیا ہے۔ اور شکار کرنا جائز ہے۔ اس لیے یہ مجرم نہیں'' مادہ ہد ہد آنسو برساتی ہوئی بولی۔ ''اللہ کے نبی! میرا مقدمہ یہ ہے کہ اگر یہ شکاری ہے تو شکاریوں والا لباس پہنے۔ یہ سادھوئوں والا روپ دھار کے شکاریوں والا کام کرتا ہے۔ یہ اپنے لباس اور اپنی وضع قطع سے دھوکا دیتا ہے۔ میرا خاوند صرف اس لیے مارا گیا کہ اس نے اس کے روپ سے دھوکا کھایا۔''
دوستو! آج ہم بھی یہی رونا روتے ہیں کہ قادیانی شکاری مسلمانوں والا لباس پہن کر مسلمانوں والا حلیہ بنا کر اور خود کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کے ایمانوں کو شکار کررہے ہیں۔ ہم بھی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے ہر اس قدم کی روک تھام کی جائے جس کے ذریعے سے یہ گروہ مسلمانوں کو دھوکا دے سکتا ہے ۔افسوس کہ ایسا قانون موجود ہے مگر اس کے باوجود اس پر عمل کروانے کی عملی کوشش آج تک نہیں کی گئی ۔اور اگر مسلمانوں نے قادیانیوں کے کھلے عام شعائر اسلامی استعمال کرنے اور خود کو بر ملاء مسلمان کہنے سے روکنے کے لئے اس قانون کے ذریعے انتظامیہ سے درخواست بھی کی ہے تو بجائے شنوائی کے مسلمانوں کی حو صلہ شکنی کی گئی ۔مسلمانوں کو یہ سمجھا یا گیا کہ جناب یہ تو ان کا حق ہے ۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ قادیانی عدالتوں کے فیصلوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے شعائر وضع کریں اور اس کے مطابق اپنی عبادات کریں یہ تو ان کا حق بنتا ہے مگر دنیا کا کون سا قانون کہتا ہے کہ دھوکہ دینا کسی کا حق ہے ۔ کیا اتنی موٹی اور واضح سی بات ہمارے ارباب اختیار کو سمجھ نہیں آتی ؟نہ معلوم یہ آپ کی ناسمجھی ہے یا معصومیت ؟
ایک بہت بڑے وکیل صاحب کے گھر ڈکیتی ہوگئی۔ لوگ پرسش احوال کے لئے ان کے گھر جمع ہوئے۔ انہوں نے وکیل صاحب سے کہا کہ آپ جیسا ہوشیار اور چالاک شخص ڈاکوئوں سے دھوکا کیوں کھا گیا؟ آپ جیسے ذہین اور ذکی شخص نے ڈاکوئوں کے لیے گیٹ کیوں کھول دیا؟ وکیل صاحب نے ٹھنڈی آہ بھری اور نظریں جھکا کر کہنے لگے کہ ڈاکو ''پولیس کی وردی'' میں آئے تھے۔
مسلمانو ! پوری دنیا میں ہر قادیانی پولیس کی وردی پہن کر اسلام اور مسلمانوں پر ڈاکہ زنی کررہا ہے۔ وہ محافظ اسلام کا لباس پہن کر ایمان کی رہزنی کررہا ہے۔ وہ چوکیدار کا روپ دھار کر ڈکیتیاں کررہا ہے۔
مسلمانو! اگر جناب محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارا عشق و غیرت کا رشتہ ہے تو ان چوروں، ان ڈاکوئوں، کو پکڑنے کے لئے اپنے سارے وسائل اور ساری صلاحیتیں صرف کردو۔ ورنہ یہ سفاک جگہ جگہ مسلمانوں کے ایمانوں کے مقتل تعمیر کردیں گے۔